خانپور سیّداں

ہاشم:

آپ کی والدہ کا نام عاتکہ دختر بہلامی بن فالج تھا۔ آپ کے چھ لڑکے تھے: (۱) عبدالمطلب (۲) فضلہ (۳) اسد (۴) ابو صبعہ (۵) ابو رسد۔

حضرت عبدالمطلب:

آپ کے چودہ پسران اور چھ دختران تھیں: عبداللہ، ابو طالبؑ، عبدالکعبہ، عباس، حمزہ، حارث، زبیر، قسم، عبدالفری، مقدم، ضرار، ابی لہب، خجل۔
دختران: صفیہ، ام حلیمہ، بیضاء، مائیکہ، آمنہ، برہ۔
خلیفہ مامون الرشید، اولادِ عباس بن عبدالمطلب سے تھے۔

حضرت عبداللہ:

حضرت عبداللہ کی شادی بی بی آمنہ دختر وہب بن ہاشم سے ہوئی۔ ان کے ہاں ایک پسر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدا ہوئے، جو بروز سوموار آدھی رات کو مکہ معظمہ میں نوشیروان کے زمانہ میں ظہور پذیر ہوئے۔ حضرت عبداللہ، رسول پاکؐ کی ولادت سے دو ماہ پہلے وفات پا گئے۔

”اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَ یَطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا“

اے (پیغمبرؐ کے) اہلِ بیتؑ! خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو ہر طرح کی برائی سے دور رکھے اور جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ویسا پاکیزہ رکھے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:

آپؐ نے چالیس سال کی عمر میں نبوت کا اعلان کیا اور بعد ازاں 23 سال تک دین کی خدمت کی۔ آپ کی عمر 63 سال تھی۔
12 ربیع الاول کو مدینہ منورہ میں، بی بی عائشہؓ کے حجرہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔
آپؐ کی 9 بیویاں تھیں: بی بی خدیجہ الکبریٰ، ام سلمہ، بی بی عائشہ دختر ابوبکرؓ، حفصہ دختر عمرؓ، صفیہ، زینب، سوعہ، میمونہ اور ام حبیبہ۔

آپؐ کے 7 بچے تھے: 3 پسران — امام قاسم، امام ابراہیم، طیب یا طاہر (بعض کے مطابق طیب و طاہر امام قاسم کے لقب تھے)
4 دختران — زینب، ام کلثوم، رقیہ، اور فاطمہ الزہرا۔
ان میں سے امام قاسم اور تمام دختران بی بی خدیجہؓ کے بطن سے تھیں، جبکہ امام ابراہیم بی بی ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے تھے۔

حضرت بی بی فاطمہ الزہرا:

آپ، حضرت محمد رسول اللہؐ کی دختر نیک اختر تھیں، مدینہ منورہ میں دفن ہوئیں۔
آپ کی اولاد:
پسران — حضرت امام حسنؑ، حضرت امام حسینؑ
دختران — حضرت زینب کبریٰ، حضرت زینب صغریٰ (جنہیں ام کلثوم بھی کہا جاتا ہے)